نئی دہلی، 21؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جنم آشٹمی کے تہوار پر دہی ہانڈی پھوڑنے کے لیے بننے والی انسانی زنجیروں میں بچوں کے شامل ہونے پر سپریم کورٹ کی طرف سے پابندی لگائے جانے سے متعلق ہدایات کے پس منظر میں قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (این سی پی سی آر)نے مہاراشٹر اور دیگر ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ ملک کی عدالت عظمی کے فیصلہ کے صحیح طریقے سے نفاذ کو یقینی بنائیں۔کمیشن نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے معاملات میں حکومت کے ساتھ سماج کو بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے تاکہ بچوں کی سلامتی سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو۔این سی پی سی آ ر کے رکن یشونت جین نے آج میڈیا سے کہاکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ایک حکم دیا ہے اور ایسے میں اس پر عمل کرنا تمام ریاستی حکومتوں اور شہریوں کی ذمہ داری بنتی ہے۔یہ بچوں کی حفاظت سے جڑاہوا حکم ہے، اس لیے مہاراشٹر حکومت اور ان دوسری ریاستی حکومتوں کو اس حکم کے نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے جہاں دہی ہانڈی پھوڑنے کا جشن منایا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگلے ایک دو دنوں میں ہم اس فیصلہ کا قانونی مطالعہ کریں گے اورپھر مہاراشٹر حکومت اور کچھ دوسری متعلقہ ریاستی حکومتوں کو سرکاری طور پر بھی خطوط لکھیں گے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ 17؍اگست کو حکم دیا تھا کہ دہی ہانڈی تہوار کے دوران انسانی زنجیروں کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 20فٹ ہو گی اوراس میں 18سال سے کم عمر کے بچے حصہ نہیں لے سکیں گے۔پہلے یہ حد ممبئی ہائی کورٹ نے طے کی تھی۔این سی پی سی آرکے رکن یشونت جین نے یہ بھی کہا کہ دہی ہانڈی کی انسانی زنجیر میں بچے شامل نہ ہوں، اس بات کو یقینی بنانا صرف سرکاری کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اس میں معاشرے کا بھی ذمہ داری بنتی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک مذہبی تہوار ہے، اسے پوری روایت کے ساتھ منایا جانا چاہیے ،لیکن بچوں کی حفاظت بھی ہمارے لیے اہم ہے، ایسے میں حکومتوں کے ساتھ معاشرے کوبھی اس بارے میں سوچنا چاہیے تاکہ بچوں کی حفاظت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو اور لوگ پوری روایت کے ساتھ تہوار بھی منائیں۔جین نے کہاکہ یہ بہت پرانی روایت ہے اور بچوں کی انسانی زنجیروں میں شامل ہونے کے خلاف آواز طویل عرصے سے اٹھ رہی ہے۔اب سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے تو امید کی جانی چاہیے کہ اس میں بچوں کو حصہ لینے سے روکا جا سکے گا۔اس بار جنم آشٹمی 25؍اگست کو ہے اور اسی دن دہی ہانڈی کو پھوڑنے کا جشن بھی ہوتا ہے۔یہ جشن مہاراشٹر میں سب سے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔کچھ دیگر ریاستوں میں بھی دہی ہانڈی کا تہوار منایا جاتا ہے۔